اسلام آباد : ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے دہشت گردی سے متعلق بیان پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کردی۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے دہشت گردی سے متعلق بیان پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور ان کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان دراصل سرحدی صوبوں سے گزر کر آنے والے افراد اور ان سے جڑے سیکیورٹی خدشات سے متعلق تھا۔
انھوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ملک کے مختلف علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کے ارکان بنیادی طور پر سرحدی صوبوں کے راستے داخل ہوتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ اس معاملے پر پنجاب حکومت کی ترجمان بھی پہلے ہی تفصیلی وضاحت جاری کر چکی ہیں۔
یاد رہے لاہور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کو پڑوسی ملک سے نہیں دیگر صوبوں سے آنے والی دہشت گردی سے خطرہ ہے، صوبے کے امن وامان پرکوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا تھا کہ کچے کا علاقہ کئی دہائیوں سے جرائم کا گڑھ بنا ہوا تھا، فوج اور سندھ حکومت کی مدد سے کچے کے علاقے میں حالات قابو میں ہیں، صوبے کے بارڈر ایریا سے تھریٹ آتی ہیں جن کے خاتمے کیلیے اب جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط بنایا ہے۔

