لاہور : گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کا اعلان کردیا اور مطالبہ کیا قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پرتبدیلی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں تبدیل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر روز عوام پر ڈیزل اور پٹرول بم گرایا جا رہا ہے، جس سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ روزانہ کی بنیاد پر گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا اعلان کریں۔ وزیر پٹرولیم ہوش کے ناخن لیں، ان کی پالیسی حکومت کو لے ڈوبے گی۔
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا تھا کہ اگست میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران وزیر پٹرولیم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بعد ہڑتال 40 روز کے لیے مؤخر کی گئی تھی۔
ملک شہزاد اعوان نے مزید کہا کہ مقررہ مدت کے دوران پیشرفت نہ ہوئی تو گڈز ٹرانسپورٹرز دوبارہ ملک گیر ہڑتال کریں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 23 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، تاہم گڈز ٹرانسپورٹرز کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے چند مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی جاری ہے، تاہم بیشتر مطالبات تاحال التوا کا شکار ہیں۔
ملک شہزاد اعوان نے مطالبہ کیا کہ دسمبر اور اگست کی ملک گیر ہڑتالوں کے دوران وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے وعدوں پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز متاثر ہوتے ہیں بلکہ ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔

