• Home  
  • پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستیں، فتوحات سے بڑھ گئیں
- کھیل

پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستیں، فتوحات سے بڑھ گئیں

کراچی (7 ستمبر 2026): 4 دہائیوں میں پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی مجموعی شکستوں کی تعداد فتوحات سے بڑھ گئی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے اعداد و شمار مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست نے قومی ٹیم کو 40 سال کے بدترین ہار اور جیت کے تناسب پر لاکھڑا کیا […]

پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستیں، فتوحات سے بڑھ گئیں

کراچی (7 ستمبر 2026): 4 دہائیوں میں پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی مجموعی شکستوں کی تعداد فتوحات سے بڑھ گئی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے اعداد و شمار مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست نے قومی ٹیم کو 40 سال کے بدترین ہار اور جیت کے تناسب پر لاکھڑا کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ کی تباہی صرف کہنے کی بات نہیں، زوال کی داستان اعداد و شمار بھی چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں۔

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کی جیت اور ہار کا تناسب بدل گیا ہے۔ 40 سال میں پہلی بار قومی ٹیم کی شکستوں کی تعداد کامیابیوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔

پاکستان ٹیم نے اب تک مجموعی طور پر 473 میچز کھیلیں ہیں۔ ان میں اس کی فتوحات کی تعداد 153 ہے جب کہ لارڈز میں ہارنے کے بعد قومی ٹیم کی ناکامیوں کی تعداد 154 ہو گئی ہے۔

2018 سے قومی ٹیم سینا ملکوں (نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ) میں ایک بھی میچ نہیں جیت سکی ہے۔

قومی ٹیم کی حالت تو یہ ہوچکی ہے کہ 2022 سے ہوم گراؤنڈ پر جیت کا تناسب بھی 50 فیصد سے کم ہو گیا ہے۔

اس دوران پاکستانی بلے بازوں کی مجموعی اوسط بھی گر کر صرف 28.24 رہی۔ فی ٹیسٹ ایک سنچری بھی نہ بن سکی۔ کسی بیٹر کی اوسط 50 تو دور 45 بھی نہیں۔

ماضی میں پاکستانی فاسٹ بولنگ دہشت کی علامت ہوتی تھی۔ مگر گزرے چار سال میں سب سے خراب اوسط اور اسٹرائیک پاکستانی پیسرز کا ہی ہے، جو تقریباً 36 رنز دینے اور 60 گیندیں کرانے کے بعد ایک وکٹ لیتےہیں۔

پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں کی بات کریں تو پاکستان نے 32 ٹیسٹ میں 83 تبدیلیاں کیں اور 38 مختلف کھلاڑیوں کو آزمایا، تاہم مطلوبہ نتائج پھر بھی نہ آ سکے۔

2011 سے اب تک بھارت نے 53 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دی، ان میں سے 10 نے 50 سے زائد ٹیسٹ میچز کھیلے۔ 8 نے 3000 سے زائد رنز بنائے اور 5 نے 150 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

جب کہ اسی مدت کے دوران پاکستان نے 60 کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا۔ ان میں واحد بابراعظم نے 50 سے زائد میچز کھیل کر 3000 سے زائد رنز بنائے جب کہ بولرز میں صرف یاسر شاہ واحد بولر ہیں، جنہوں نے 150 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

 

 

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.