• Home  
  • پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود حکومت نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرالیا
- پاکستان

پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود حکومت نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرالیا

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود حکومت نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرالیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام ایک بار پھر قانون سازی کے مرحلے میں پہنچ گیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، تاہم پیپلزپارٹی […]

پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود حکومت نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرالیا

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود حکومت نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرالیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام ایک بار پھر قانون سازی کے مرحلے میں پہنچ گیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، تاہم پیپلزپارٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی نوٹ جمع کرا دیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے بلدیاتی ڈھانچے کے لیے قانون سازی ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مسلسل ترامیم اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

اسلام آباد میں بلدیاتی نظام اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

بعد ازاں مقامی حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے جنوری 2026 میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا، جس کے تحت اسلام آباد کی میٹروپولیٹن کارپوریشن ختم کرکے تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔

مجوزہ ترامیم کے تحت ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود قومی اسمبلی کے حلقوں کے مطابق رکھنے، منتخب بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری، ٹیکسز اور فیسوں کی وصولی کے اختیارات اور وفاقی حکومت کو مقامی حکومتوں و ایڈمنسٹریٹرز کو ہدایات جاری کرنے کے اختیارات دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے نقشوں، حلقہ بندیوں اور یونین کونسلز سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں، جبکہ وفاقی حکومت اور یونین کونسلز کے کردار سے متعلق ابہام کی بھی نشاندہی کی گئی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے ارکان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر حکومت انتخابات کرانا چاہتی ہے تو واضح طور پر بتائے، کیونکہ 5 ستمبر کو آرڈیننس کی مدت ختم ہورہی ہے۔

عبدالقادر پٹیل نے الزام عائد کیا کہ حکومت منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بجائے بااختیار ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنا چاہتی ہے، جبکہ انہوں نے اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز کی بھی مخالفت کی۔

پیپلزپارٹی کے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بار بار قانون سازی کا مقصد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنا دکھائی دیتا ہے۔ نوٹ کے مطابق الیکشن کمیشن جب بھی انتخابی عمل آگے بڑھاتا ہے، نیا ترمیمی بل یا آرڈیننس سامنے آجاتا ہے۔

اختلافی نوٹ میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی حکومتوں کو سیاسی اور مالی اختیارات کی منتقلی لازمی ہے، جبکہ اسلام آباد کے شہری کئی برس سے منتخب بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہیں۔

پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ، جمال رئیسانی، نبیل گبول اور عبدالقادر پٹیل نے اختلافی نوٹ پر دستخط کیے، جبکہ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت کی۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.