انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے لاہور پریس کلب میں “میٹ دی پریس” پروگرام میں شرکت کی ۔
لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران۔ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا بھی آئی جی پنجاب کے ہمراہ موجود تھے ۔ پریس کلب کا شکر گزار ہوں کہ مجھے بلایا ۔جب پولیس افسران کی پروفیشنل لائف شروع ہوتی ہے تب سے ہی کرائم رپورٹر سے ملاقاتیں شروع ہوتی ہیں .سسٹم میں موجود جتنا اہم پولیس والے ہیں اتنے ہی کرائم رپورٹر بھی ہیں ۔
پولیس بنانے کا مقصد لوگوں کو انصاف پہنچانا ہے ۔کرائم رپورٹر اسی مقصد مین ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔بیت سے چیزیں ہمیں نہیں معلوم ہوتی جو جرائم رپورٹر بتاتا ہے ۔بہت سے چیزیں اور ایم مشورے بھی آپ لوگوں سے ملتے ہیں ۔اپ۔لوگ بھی ہمارے طرح فیلڈ مین موجود ہوتے ہیں ۔
لاہور میں اچھا کام ہورہائے اور کوارڈینیشن بھی اچھی ہے ۔مستقبل میں بھی آپ لوگوں سے یہی توقع ہے۔8 سو ہے قریب ہمارے تھانے ہیں ۔وزیراعلی کا ویژن یہی ہے ۔لوگوں کو تھانوں میں رہی ریلیف دیا جائے ۔اسی ریلیف کے لیے ہم مختلف اقدامات کررہے ہیں ۔خواتیں کے لیے ورچوئل ویمین پولیس اسٹیشن لارہے ہیں ۔کرائم میں واضح کمی آئی ہے ۔ٹریفک کی مینجمنٹ اور وائلیشن مین بھی کمی آئی ہے
۔ہم کوشش کررہے ہیں کہ چیزیں مزید بہتر کریں۔کرپشن کے خلاف کسی بھی قسم کی معافی نہیں ہوگی ۔کرپشن کرنے والے کا نہ تو عہدہ دیکھا جائیگا نہ ہی نام ۔جو بھی کر پشن مین ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔2023 میں پولیس رولز مین ایلیٹ اورینٹیشن کورس کو لازمی قرار دیا گیا تھا ۔یہ کورس اے ایس پی لیول تک کرایا جاتا ہے ۔200 کے قریب ہم نے سب انسپکٹرز سے انسپکٹرز کو ترقی دینی ہے۔سی سی ڈی برے کیسز دیکھتی ہے
اغوا برائے تاوان کے کیسز ہونگے تو ہی سی سی ڈی کام کرے گی ۔جرائم مین کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سی سی ڈی کم نظر آرہی ہے۔ہمارے پاس جدید فرانزک لیب موجود ہیں ۔جو کیس سی سی ڈی کا بنتا ہے انہیں دیا جاتا ہوں ۔علی ڈار کا کیس ایس ایس آئی او کا بنتا تھا اسی لیے سی سی ڈی کو وہ کیس نہیں دیا گیا ۔سی سی ڈی اور پولیس کے اندر لوگوں کے خلاف ایکشنز ہونے ہیں
ہم مزید باڈی کیمز خرید رہے ہیں۔ناکوں پر لوگوں سے ڈیل۔کرنے والوں کو باڈی کیم لگا رہے ہیں ۔تاکہ جو بھی گفتگو ہوئی ۔ہماری چیزیں جیسے ہی کسٹم سے کلیر ہونگی تو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں تمام پنجاب پولیس کو کیمرے لگا دینگے۔80 فیصد لوگ جو بچوں کیساتھ کرائم کررہے ہیں وہ انکو جانتے ہیں ۔خواتیں کیساتھ بھی جو لوگ زیادتی کرتے ہیں وہ بھی ان کے جانتے والے ہوتے ہیں،

