واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خارگ جزیرے کو مکمل تباہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اے آئی ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں امریکی فوج کی جانب سے ایران میں کی جانے والی بمباری دکھائی جا رہی ہے۔
جزیرہ خارگ میں ایران کی اہم تیل تنصیبات موجود ہیں، ٹرمپ نے اپنی ایک سطری پوسٹ میں کہا کہ ایران کا توانائی کا مرکز خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔
روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ اس پوسٹ کے وقت اس بات کا کوئی دوسرا ثبوت موجود نہیں تھا، کہ ایرانی توانائی کا یہ مرکز حملے کی زد میں ہے، ایرانی میڈیا کی جانب سے بھی ٹرمپ کی پوسٹ پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
پوسٹ کے ساتھ منسلک ویڈیو کلپ میں شدید نوعیت کے دھماکے دکھائی دے رہے تھے، تاہم اب تصدیق ہو چکی ہے کہ امریکی فوج نے خارگ پر بمباری کی ہے۔
خارگ پر 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے سے قبل ایران کی 90 فی صد تیل کی برآمدات نمٹائی جاتی تھیں، حالیہ حملے سے خطرہ ہے کہ یہ تہران کی توانائی کی تجارت کو شدید طور پر متاثر کرے گا اور اس کی معیشت پر بہت زیادہ دباؤ ڈالے گا۔
واضح رہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے لارک پر بمباری کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے جواب میں پاسداران نے اردن میں موجود دو امریکی اڈوں پر حملہ کیا۔ لارک جزیرہ خارگ سے تقریباً 660 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔

