کراچی : سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ملکی معاشی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کہا کہ پچھلے 4 سال پاکستان کی معیشت میں بدترین رہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا گزشتہ چار سال ملکی معیشت کے لیے بدترین چار سالوں میں شمار ہوتے ہیں، اس عرصے میں معاشی شرح نمو انتہائی کم رہی جبکہ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ میں افراط زر کی بلند ترین سطح دیکھی گئی، جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا ملکی برآمدات بھی گزشتہ چار سال کے دوران کم رہیں، جبکہ مالی سال 2023-24 اور 2024-25 میں گزشتہ 50 سالوں کی کم ترین سطح کی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی اور حکومتی اعداد و شمار ملکی معیشت کی تباہی کی داستان سنا رہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہورہا تھا تو حکومت کو پٹرولیم لیوی کم کرنی چاہیے تھی، تاہم قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرول پر ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پٹرول پر لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 117 روپے فی لیٹر کردی گئی، جبکہ گزشتہ سال عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1600 ارب روپے وصول کیے گئے۔
سابق وزیر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے بھی 600 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ اسکے برعکس افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چاروں صوبوں کے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں سے پچھلے سال 10 ارب ٹیکس بھی نہیں کیا گیام جو عوام میں ناراضی کا سبب بن رہا ہے۔
نئے آئی پی پیز منصوبوں پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پہلے سولر صارفین کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے پانچ سالہ پالیسی تبدیل کی اور نیٹ میٹرنگ ختم کردی، جبکہ اب نئے پاور منصوبے لگانے کا اعلان کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی پالیسی ہے جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2013 سے 2018 کے دوران اختیار کی تھی تاہم نیپرا میں نظرثانی اپیل بھی دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ نئے پاور منصوبے مہنگے لگ رہے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش میں اسی نوعیت کے پلانٹس ایک تہائی کم قیمت پر لگائے جارہے ہیں، حکومت نے ایک طرف مہنگی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے اور دوسری جانب ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کی، جس کا بوجھ اب عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

