نجاب میں روایتی رٹہ سسٹم کے بجائے ایکٹیویٹی اور کنسپٹ بیسڈ لرننگ کی جانب پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔
سرونگ سکولز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر رضا الرحمن نے کہا ہے کہ حقیقی تعلیم بچوں کو محض جوابات یاد کروانے کے بجائے انہیں سمجھنے، سوچنے اور سوال کرنے کے قابل بناتی ہے۔
رضا الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں کنسپٹ بیسڈ لرننگ کے اعلان سے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ رٹہ سسٹم کے بجائے ایسا تعلیمی طریقہ اپنانا ضروری ہے جس میں طلبہ عملی سرگرمیوں کے ذریعے تصورات کو سمجھیں اور حاصل شدہ علم کو عملی زندگی میں استعمال کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ کنسپٹ بیسڈ لرننگ پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی پالیسی تشکیل دیتے وقت ماہرین تعلیم، اساتذہ اور والدین کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ نئے کریکولم کو مؤثر اور قابلِ عمل بنایا جاسکے۔
سرونگ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مستقل اور دیرپا اصلاحات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ’’میثاقِ تعلیم‘‘ پر متفق ہونا چاہیے، تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔

