• Home  
  • قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کتنی ہوگی ؟ اہم فیصلہ محفوظ
- پاکستان

قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کتنی ہوگی ؟ اہم فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین کے حوالے سے اہم فیصلہ محفوظ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین سے متعلق اہم قانونی معاملے پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے […]

قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کتنی ہوگی ؟ اہم فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین کے حوالے سے اہم فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین سے متعلق اہم قانونی معاملے پر سماعت ہوئی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مجرم ندیم خان کی اپیل پر سماعت کی، دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل اپنی قید کی سزا پوری کرچکا ہے اور اب صرف دیت کی رقم ادا نہ کرنے کے باعث سزا بھگت رہا ہے۔

پراسیکیوٹر ارشد حسین نے عدالت کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اور دیت کی رقم کے تعین سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے، موجودہ شرح کے حساب سے دیت کی رقم تقریباً ایک کروڑ 97 لاکھ روپے ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ دیت کی رقم کا تعین وقوعہ کے وقت، گرفتاری کے وقت یا سزا سنائے جانے کے وقت کی قیمت کے مطابق کیا جانا چاہیے؟

سماعت کے دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ اگر قتل کرنا تھوڑا مہنگا ہو تو شاید لوگ جرم سے رک جائیں، سعودی عرب میں آج بھی دیت کے طور پر 100 اونٹ دیے جاتے ہیں۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ وقت پر فیصلہ نہ ہونا نظام کی خرابی ہے، تاہم نظام کی خرابی کی سزا ملزم کو نہیں دی جاسکتی، جس پر پراسیکیوٹر ارشد حسین نے مزید کہا کہ ملزم کی عمر کا تعین گرفتاری کے وقت سے کیا جاتا ہے۔

عدالت نے ملک بھر کے تمام متعلقہ پراسیکیوٹرز کو دیت کی رقم کے تعین سے متعلق تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.