کراچی : برسات اور بدلتے موسم کے دوران ڈینگی، ملیریا، وائرل بخار اور ٹائیفائیڈ سمیت مختلف بیماریوں کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ بخار کے دوران اکثر لوگ اس سوال کا شکار رہتے ہیں کہ ایسی حالت میں غسل کرنا صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق بخار کی صورت میں غسل کرنے سے گریز ضروری نہیں، بلکہ نیم گرم پانی سے غسل جسم کو سکون پہنچانے اور عارضی طور پر درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے, تاہم پانی نہ تو بہت گرم ہونا چاہیے اور نہ ہی بہت ٹھنڈا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بخار کے دوران برفیلے یا انتہائی ٹھنڈے پانی سے نہانے سے گریز کرنا چاہیے۔
اچانک ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کا اندرونی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے اور مریض کو بے آرامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح بہت زیادہ گرم پانی سے غسل کرنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ اس سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ کمزوری اور تھکن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے بخار کم کرنے کے لیے جسم پر الکحل یا اسپرٹ ملنے کے طریقے کو بھی مسترد کیا ہے۔ جلد پر الکحل لگانے سے یہ جسم میں جذب ہوسکتی ہے اور نقصان دہ اثرات پیدا کرسکتی ہے، اس لیے بالخصوص بچوں پر ایسا تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔
بخار میں کن باتوں کا خیال رکھیں؟
ماہرین کے مطابق بخار خود کوئی بیماری نہیں بلکہ عموماً جسم میں موجود کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے۔ اس لیے صرف بخار کم کرنے کے بجائے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔
بخار کے دوران جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے پانی، او آر ایس، ناریل کا پانی، سوپ اور دیگر مناسب سیال زیادہ مقدار میں استعمال کیے جائیں۔ ہلکے اور آرام دہ کپڑے پہننے کے ساتھ کمرے میں مناسب ہوا کا گزر بھی یقینی بنانا چاہیے۔
اگر مکمل غسل کرنا مشکل محسوس ہو تو نیم گرم پانی میں بھگوئے ہوئے نرم کپڑے سے جسم کو صاف یا اسپنج کیا جاسکتا ہے۔
غذا میں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی اشیا، مثلاً دلیہ، کھچڑی اور دیگر نرم غذاؤں کو ترجیح دینا بہتر ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا ضروری ہے؟
ہلکے بخار کی صورت میں اکثر آرام، مناسب مقدار میں سیال اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات سے افاقہ ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا اس کے ساتھ الجھن، سانس لینے میں دشواری، شدید سر درد، مسلسل الٹی، جلد پر غیر معمولی دھبے یا دیگر تشویشناک علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
تین ماہ سے کم عمر بچے کو بخار ہونے کی صورت میں بھی فوری طبی معائنہ ضروری ہے، ماہرین کے مطابق بخار میں غسل سے زیادہ اہم بات پانی کی مناسب مقدار، آرام، ہلکی غذا اور بخار کی اصل وجہ کا بروقت علاج ہے۔

