سیول : جنوبی کوریا میں ایک صدی بعد گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، 1904 سے جاری جدید موسمی مشاہدات کی تاریخ میں پہلی بار اتنا بلند درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی کوریا ان دنوں موسمیاتی تبدیلیوں کی بدترین لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں ایک صدی کے بعد گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
غیر معمولی درجہ حرارت اور شدید لو کے باعث حکام نے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک میں دوسرے درجے کی شدید ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
موسمیاتی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے شہریوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جس میں انہیں سخت تاکید کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی بیماری یا جانی نقصان سے بچنے کے لیے تمام بیرونی اور آؤٹ ڈور سرگرمیاں فوری طور پر ترک کر دیں اور گھروں کے اندر رہیں۔
محکمہ موسمیات اور مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
یانگ سان میں مسلسل 5 دنوں سے پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جبکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں بشمول ڈیگو اور بوسان میں بھی شدید تپش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں درجہ حرارت 30 ڈگری کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے۔
:ماہرینِ موسم کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں سال 1904 سے جدید موسمی مشاہدات اور ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اور پچھلے 122 سالہ تاریخ میں پہلی بار ملک میں اتنا زیادہ اور ہولناک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی آمد کے پیشِ نظر طبی عملے کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا میں گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے1904 سے جاری جدید موسمی مشاہدات کی تاریخ میں پہلی بار اتنا بلند درجہ حرارت ریکارڈ کیا گ
