لاہور : نئی گاڑی یا موٹرسائیکل خریدنے والے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خبر آگئی ، اب گاڑی یا موٹرسائیکل شو روم سے باہر نکلنے سے پہلے ہی رجسٹرڈ کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن کے نظام کو تبدیل کرنے کی بڑی تیاری کر لی ہے۔
نئے مجوزہ پلان کے تحت اب کوئی بھی نئی گاڑی یا موٹرسائیکل شو روم سے باہر نکلنے سے پہلے ہی رجسٹرڈ کی جائے گی، جس کے لیے تمام ڈیلرز کو ‘ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم’ کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔
تاہم اس نئے نظام کے ساتھ ہی عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری بھی کر لی گئی ہے اور سروس چارجز کو دگنا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
موٹرسائیکل رجسٹریشن چارجز 500 روپے سے بڑھا کر 1,000 روپے کرنے اور کار رجسٹریشن چارجز 2,000 روپے سے بڑھا کر 4,000 روپے کرنے کی تجویز ہے۔
محکمہ ایکسائز کے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر کی موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو ڈیلرز کی فہرستیں فراہم کر دی گئی ہیں اور انہیں نئے نظام کا حصہ بننے کے لیے رابطے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
مزید برآں، ڈیلرز کے لیے لائسنسنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور ڈی وی آر ایس رجسٹریشن فیس میں کمی کے لیے ایک سمری صوبائی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔
خیال رہے اس وقت پورے پنجاب میں صرف 102 لائسنس یافتہ ڈی وی آر ایس آپریٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں سے 96 موٹرسائیکل اور صرف 6 ڈیلرز کاروں کی رجسٹریشن کے مجاز ہیں۔
دوسری جانب کار ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہر شو روم کو لائسنس جاری کرنے کی اس حکومتی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور رجسٹریشن کے اس نئے ماڈل پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نئے نظام کے نفاذ اور کار ڈیلرز پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے صورتحال کو فوری طور پر واضح کیا جائے، کیونکہ فیسوں اور رجسٹریشن کے معاملے پر محکمہ ایکسائز اور کار ڈیلرز کے درمیان تنازع پہلے ہی شدت اختیار کر چکا ہے۔

