• Home  
  • اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے، جمیل احمد
- پاکستان

اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے، جمیل احمد

اسلام آباد (30 جولائی 2026): گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال ساڑھے 21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جس میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض جب کہ 80 کروڑ […]

اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے، جمیل احمد

اسلام آباد (30 جولائی 2026): گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال ساڑھے 21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جس میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض جب کہ 80 کروڑ ڈالر دیگر بیرونی واجبات کی مد میں ادا کیے گئے۔

ایس بی پی گورنر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے ہیں، گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر کی خریداری مقامی مارکیٹ سے کی گئی۔

انھوں نے کہا سعودی عرب نے 2028 تک رول اوور کر دیا ہے، گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں مالی سال بیرونی ادائیگیوں میں 5 ارب ڈالر کمی ہوئی ہے، رواں مالی سال اگلے گیارہ ماہ کے دوران ادائیگیوں کا پریشر کم ہو جائے گا، رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں واپس کرنے ہیں، جس میں ساڑھے 3 ارب ڈالرز سود ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 26.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

جمیل احمد کے مطابق پاکستان نے کویت کے 250 ملین ڈالرز دینے ہیں جو 90 کی دہائی سے رول اوور ہو رہے ہیں، جولائی 2026 کے دوران چین کے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی مکمل ادائیگی کر دی گئی ہے، تاہم اس قرض کی ری فنانسنگ ابھی تک نہیں ہوئی، توقع ہے کہ چینی بینک آئندہ چند ہفتوں میں اس کی دوبارہ فراہمی کر دیں گے، عالمی سطح پر شرح سود میں کمی سمیت مختلف عوامل کے باعث قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی آئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا تھا کہ 21.5 ارب ڈالر کی مجموعی بیرونی ادائیگیوں میں تقریباً 12 ارب ڈالر ایسے ڈپازٹس ہیں جن کے رول اوور کی توقع ہے، جب کہ تقریباً 3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے ری فنانس کیے جائیں گے، اس طرح حقیقی ادائیگیوں کا حجم تقریباً 7 ارب ڈالر بنتا ہے، اس لیے اگست 2026 سے جون 2027 تک بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔

انھوں نے کہا اسٹیٹ بینک کے پاس موجود 12 ارب ڈالر کے بیرونی ڈپازٹس میں سے 8 ارب ڈالر سعودی عرب جبکہ 4 ارب ڈالر چین کے ہیں، ان ڈپازٹس کے رول اوور کی ضرورت دسمبر 2026 اور مارچ 2027 میں پیش آئے گی، حکومت کو امید ہے کہ دوست ممالک ان رقوم کی مدت میں توسیع کریں گے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے، تاکہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بفر تیار کیا جا سکے، صرف گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر خریدے گئے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی، جولائی 2026 کے وسط تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.6 ارب ڈالر تھے، جن میں سے 17.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک جب کہ 5.4 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے، جولائی کے آغاز میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، چینی کمرشل قرض اور دیگر بیرونی واجبات کی ادائیگی کے بعد ان میں کمی واقع ہوئی۔

انھوں نے کہا امریکا سے 10 ارب ڈالر کے بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ پیکیج کی مبینہ درخواست پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، مالی سال 2027-28 میں آئی ایم ایف کی جانب سے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس کا جائزہ مناسب وقت پر لیا جائے گا، موجودہ مالی سال میں پاکستان بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے مطمئن اور پُراعتماد ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں بھی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سمیت کسی بھی بیرونی معاشی جھٹکے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.