• Home  
  • فیفا ورلڈ کپ : ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر، عجیب و غریب رسومات
- کھیل

فیفا ورلڈ کپ : ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر، عجیب و غریب رسومات

بیونس آئرس : فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میچ سے قبل ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر پہنچ گئی، شائقین نے خوش قسمتی کیلیے عجیب و غریب رسومات کو اپنالیا۔ فیفا ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹائن میں فٹبال شائقین اور ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کے لیے مختلف عقائد اور ٹوٹکوں کا سہارا لیتے […]

فیفا ورلڈ کپ : ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر عجیب و غریب رسومات

بیونس آئرس : فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میچ سے قبل ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر پہنچ گئی، شائقین نے خوش قسمتی کیلیے عجیب و غریب رسومات کو اپنالیا۔

فیفا ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹائن میں فٹبال شائقین اور ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کے لیے مختلف عقائد اور ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں، پرانی شرٹس پہننے سے لے کر، مخصوص اسٹیکرز جمع کرنے اور پوجا پاٹ تک کے توہم پرستانہ طریقے عام ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں اسپین کے خلاف فیصلہ کن مقابلے سے قبل ارجنٹائن میں فٹبال کا جنون عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں لاکھوں شائقین ٹیم کی کامیابی کے لیے ’خوش قسمتی کی مختلف رسومات‘یا توہم پرستانہ روایات پر عمل کر رہے ہیں۔

ارجنٹائن نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کی امیدیں روشن کردی ہیں، تاہم فائنل سے قبل مداح اعصابی دباؤ کم کرنے کے لیے اپنی اپنی روایتی رسومات کو کامیابی کی ضمانت سمجھ رہے ہیں۔

 

میچ کے دوران نشست بدلنا منع

بیونس آئرس کے علاقے لینیئرز سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ آندریس گونزالیز کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران کوئی بھی شخص اپنی جگہ نہیں بدلتا۔

ان کے مطابق اگر کوئی شخص باتھ روم گیا ہو اور اسی دوران ارجنٹائن گول کر دے تو اسے میچ ختم ہونے تک وہیں رہنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔

صدر بھی اپنی روایت نہیں توڑتے

ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے دوران اپنی مخصوص روایت نہیں توڑتے اور ہر میچ صدارتی رہائش گاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔

ہر گھر کی الگ رسم

65سالہ ایسٹیلا وارگاس کے گھر میں ہر میچ کے دوران خاندان کے تمام افراد ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ایک ہی نشست پر بیٹھتے ہیں، جبکہ ان کا پالتو کتا میچ کے دوران گھر سے باہر رہتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں چونکہ کتا انگلش بل ڈاگ نسل کا تھا، اس لیے اسے ارجنٹائن کی جرسی پہنائی گئی، لیکن اسپین کے خلاف میچ میں اسے ہر حال میں باہر رکھا جائے گا۔

اسی طرح ایک اور خاتون گریسیلا کامپوس کے گھر میں ان کی ساس میچ کے دوران کمرہ چھوڑ کر باورچی خانے میں نیلے اور سفید رنگ کا مفلر بنتی رہتی ہیں، کیونکہ خاندان اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتا ہے۔

شائقین خود کو بھی ٹیم کا حصہ سمجھتے ہیں

ماہرِ سماجیات ڈیاگو مورزی کے مطابق ارجنٹائن میں لوگ خود کو صرف تماشائی نہیں بلکہ ٹیم کی کامیابی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ مختلف رسومات کے ذریعے شائقین یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے خوش قسمتی لا رہے ہیں اور بدقسمتی کو دور کر رہے ہیں۔

میرا ڈونا کی یاد آج بھی زندہ

ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میرا ڈونا آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں، بیونس آئرس میں ان کے سابقہ گھر کو عقیدت کی علامت کے طور پر سجا دیا گیا ہے، جہاں شائقین ان سے منسوب یادگار پر حاضری دیتے ہیں۔

بعض مداح اب بھی پرانی روایت کے مطابق مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر یا اسٹیکرز فریزر میں رکھ کر اپنی ٹیم کی کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.