لاہور: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کے ساتھ ہی برف کی طلب کئی گنا بڑھ گئی ہے، تاہم ماہرین صحت عوام کو بازار میں فروخت ہونے والی غیر معیاری برف کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برف کے بلاک تیار کرنے والے فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ برف بنانے کے لیے امونیا کمپریسر مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس عمل میں سب سے پہلے پانی کو ایک بڑے برائن ٹینک میں رکھا جاتا ہے، جہاں نمک ملے محلول کی مدد سے درجہ حرارت کو نقطہ انجماد سے بھی نیچے لایا جاتا ہے، جس سے پانی جم کر برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
کارخانے کے ذمہ داران کے مطابق ایک برف کے بلاک کی تیاری کا عمل نہایت محنت طلب ہے اور اسے مکمل ہونے میں تقریباً 36 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
ایک بڑے برائن ٹینک میں بیک وقت تقریباً 650 برف کے بلاکس تیار کیے جا سکتے ہیں، تاہم پیداوار کو مرحلہ وار نکالا جاتا ہے، جس کے تحت روزانہ تقریباً 200 بلاکس مارکیٹ میں فروخت کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ممالک میں برف سازی کے نظام زیادہ ترقی یافتہ اور خودکار ہیں، جبکہ مقامی سطح پر اب بھی روایتی مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔ گرمیوں میں برف کا استعمال صرف گھریلو ضرورت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑی تجارتی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
دوسری جانب ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بازار میں دستیاب ہر برف حفظانِ صحت کے اعلیٰ معیار کے مطابق تیار نہیں ہوتی، اس لیے غیر معیاری برف کے استعمال سے حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ بہت سے لوگ پینے کے لیے منرل واٹر یا فلٹر شدہ پانی استعمال کرتے ہیں، لیکن گھر میں برف جمانے کے لیے ٹرے میں عام نلکے کا پانی بھر دیتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ہوٹلوں، ریستورانوں اور ٹھیلوں پر مشروبات میں استعمال ہونے والی برف کے معیار کے بارے میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ برف ہمیشہ صاف، محفوظ اور معیاری پانی سے تیار کی گئی استعمال کی جائے تاکہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔

