اسلام آباد : معدے کی جلن کے استعمال ہونے والے سپرپ سمیت عام استعمال ہونے والی 4 اینٹی بائیوٹکس کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی و صوبائی ڈرگ انسپکٹرز نے میڈیسن مارکیٹوں میں مشترکہ بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے معروف برانڈز کے نام پر تیار کی جانے والی پانچ ادویات کے بیچز جعلی قرار دے دیے گئے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے سندھ ڈرگ حکام کی اطلاع پر ان جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر ریپڈ الرٹس جاری کر دیے ہیں۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے نمونہ جات کی جانچ کے بعد 5 ادویات کے مخصوص بیچز کو جعلی قرار دیا۔
معدے کی جلن اور تیزابیت کے لیے استعمال ہونے والا میوکین سیرپ جعلی فروخت ہو رہا تھا جبکہ اینٹی الرجک نیزل سپرے نیزومٹ سپرے کا بیچ نمبر FW 099 جعلی ثابت ہوا۔
اس کے علاوہ پٹھوں اور پیٹ کے درد و سوجن کی نوسپا فورٹ 80 ایم جی کا بیچ نمبر AN010 جعلی قرار پایا۔
مختلف انفیکشنز کے لیے استعمال ہونے والی معروف اینٹی بائیوٹکس آگمنٹین اور ویلوسیف کے بھی جعلی نمونے برآمد کیے گئے ہیں۔
ڈریپ حکام کے مطابق یہ ادویات ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت مکمل طور پر جعلی اور غیر قانونی ثابت ہوئی ہیں، لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران ان جعلی ادویات کے سیمپلز میں بنیادی خام مال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا معیار غیر واضح ہے اور ان کا استعمال جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
جعلی ادویات کو نامور نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈ نیمز پر تیار کیا گیا ہے، جبکہ ان کے پیکنگ لیبلز پر کراچی کی فارما کمپنیوں کے پتے درج کیے گئے تھے۔
صورتحال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈریپ نے تمام صوبائی ڈرگ حکام اور فیلڈ فورس کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت کی۔
مارکیٹ سے ان تمام ادویات کے مذکورہ بالا بیچز کو فوری طور پر بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ جعلی ادویات تیار کرنے اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور ڈرگ کورٹ میں مقدمات چلانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

