تہران: ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے دھمکی دی ہے کہ دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں ایران خطے میں موجود کئی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو تباہ کر دے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہے، جب کہ خطے میں امریکا کے اہم اثاثے تاحال ایران کے اہداف میں شامل نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکا کے اہم اثاثے موجود ہیں۔ نئی جنگ کی صورت میں دشمن کا مقابلہ زیادہ وسیع اور ہمہ گیر منصوبے کے تحت کیا جائے گا۔ ان کے مطابق خطے میں کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کی مالیت 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ امریکا جان لے کہ ایرانی کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنے حقوق تسلیم کرانے تک مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایران اقتصادی جنگی کونسل کے قیام پر غور کر رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو اقتصادی جنگ کا اصل مفہوم سمجھائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایران کا سفارتی انداز تبدیل ہو چکا ہے اور وہ ماضی کی سفارتکاری کی طرف واپس نہیں جائے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوئے، لیکن امریکیوں نے ہر بار مذاکرات ادھورے چھوڑ کر ایران پر حملہ کیا۔ ان کے بقول، معاہدے سے دست بردار ہونے والے فریق کے ساتھ مختلف سفارتی رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق امریکا نے ایران کی 7 شرائط کا جواب دیا ہے، تاہم تہران اسے ناکافی سمجھتا ہے۔ امریکا نے گزشتہ 2 ماہ کے دوران پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے ایران سے رابطہ کیا اور تہران سے اپنی تجاویز پیش کرنے کی درخواست کی۔ ایران نے دو ہفتے قبل امریکا کے سامنے سات شرائط رکھی تھیں۔
حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
انھوں نے کہا کہ ان شرائط کی تکمیل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کی بعض شرائط تسلیم کرلی ہیں، جب کہ کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ ایران اب امریکا کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں، بلکہ مبہم معاملات کی وضاحت کرنا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔
امریکا اسمگلنگ کر رہا ہے!
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محسن رضائی نے امریکا پر اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کے ساحلی پانیوں میں سرگرم عناصر کو استعمال کر کے اسمگلنگ کا سہارا لیا، جب کہ ٹرمپ روزانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کمانڈر اسمگلنگ کی کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے اور ان سرگرمیوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی فوج کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تیل منتقل کرنے کے لیے بڑے ٹینکروں کے ساتھ 5 یا 6 چھوٹی کشتیاں استعمال کی جاتی ہیں، جب کہ ایران بھی گزشتہ چند ماہ سے ہر رات آبنائے ہرمز میں اسمگلنگ کرنے والے پانچ یا چھ جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ امریکی حکام مشکل صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ایران کی طاقت کا درست ادراک نہیں رکھتے۔ ان کے بقول، جنگ کا اختتام ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے اور حقوق تسلیم ہونے تک ایران مزاحمت اور دفاع جاری رکھے گا۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے بغیر خلیج فارس محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز پر اختیار ایران کی عظیم قومی دولت اور اہم قومی اثاثہ ہے۔ اسے بند کرنا یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنا ایران کا واحد مقصد نہیں، بلکہ اس آبنائے سے متعلق ایرانی مفادات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں اور ایران اس سے معاشی فوائد بھی حاصل کر سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ تاریخ میں امریکا سے زیادہ طاقت ور قوتوں نے بھی ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی، لیکن ایسی قوتیں بالآخر تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن گئیں۔

