لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو آئینی طو رپر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سرکاری ملازمین اور پبلک آفس ہولڈر کو پبلک سروس کے نام پر سول ایوارڈ دینے کیخلاف درخواست پر جسٹس احمد ندیم ارشد نے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلے کے مطابق آئین صرف بلامعاوضہ یا رضاکارانہ خدمات تک محدود نہیں کیا گیا، تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو آئینی طور پر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سرکاری عہدے یا ملازمت پر ہونا بذاتِ خودسول ایوارڈ کا حقدار نہیں بناتا، پاکستان سول ایوارڈز کے لیے پبلک سروس ایک الگ شعبہ ہے پبلک سروس کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نامزدگی کا متعلقہ ادارہ مقرر کیا گیا ہے، درخواست میں مانگا گیا ریلیف قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور قابلِ عمل نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دی۔
