کوالالمپور: جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی کم لاگت ایئر لائن ’ایئر ایشیا‘ کی مالی حالت خراب ہونے پر ملائیشیا کی حکومت نے اس کے فضائی آپریشنز کے لیے دو دیگر ایئر لائنز کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ملائیشیا کی حکومت یہ جائزہ لے رہی ہے کہ اگر ایئر ایشیا کو مالی مشکلات کا سامنا رہا تو اس کے ملکی روٹس اور مسافروں کو کون سی دوسری ایئر لائنز سنبھال سکتی ہیں۔
اسی سلسلے میں حکومت نے ملائیشیا ایئر لائنز اور بٹیک ایئر سے پوچھا ہے کہ کیا وہ ایئر ایشیا کے ملکی فضائی سفر کا مارکیٹ شیئر اپنے آپریشنز میں شامل کر سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں حکومت اور ملائیشیا ایئر لائنز اور بٹیک ایئر کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بات چیت میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ ایئرایشیا کو درپیش مالی دباؤ کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے ایئرایشیا متاثر ہوئی ہے۔ دوسری سہ ماہی میں جیٹ فیول کی اوسط قیمت گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 66 فی صد بڑھ کر 183 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ملائیشیا ایئرلائنز اور بٹیک ایئر نے حکومت کو جواب میں کہا ہے کہ وہ ایئر ایشیا کے آپریشنز کو بڑے پیمانے پر اسی صورت اپنے اندر شامل کریں گی جب انھیں ایئر ایشیا کے طیاروں کے لیز معاہدے بھی منتقل کیے جائیں۔ اس کے بغیر ایئر ایشیا کے روٹس اور مسافروں کی تعداد کو اپنے اندر سمو لینا بہت مشکل ہوگا۔
ملائیشیا ایئرلائنز اور بٹیک ایئر، دونوں نے حکومت کے سامنے اس امر پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ایئر ایشیا کا پورا کاروبار خریدنے کی بہ جائے اپنی روٹین کی سرگرمیوں کو وسعت دے کر ایئر ایشیا کے روٹس اور مسافروں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر سکتی ہیں۔
ایئر ایشیا کے مطابق ملائیشیا کی مجموعی ہوابازی کی مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 40 فی صد اور ملکی فضائی سفر میں تقریباً 60 فی صد ہے، جس کے باعث اس کے مالی مسائل حکومت کے لیے خاصی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

