اسلام آباد : کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کی ڈیجیٹل ڈکیتی اور منی لانڈرنگ کا انکشاف سامنے آیا ، جس میں کئی اعلیٰ سرکاری افسران کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کی مبینہ ڈیجیٹل ڈکیتی اور منی لانڈرنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 9 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔
تحقیقاتی ٹیم کی قیادت اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر ارسلان کریں گے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لا محمد افضل بھی ٹیم میں شامل ہیں۔
دیگر اراکین میں وقاص زمرد، انسپکٹر عثمان افتخار، وجاہت سلطان، طلعت نسیم، سب انسپکٹر تابش جاوید، لیاقت علی اور دانش سرفراز شامل ہیں۔
تشکیل شدہ تحقیقاتی ٹیم اس اربوں روپے کے اسکینڈل کی مکمل چھان بین کرے گی اور اپنی پیشرفت رپورٹ ہر ہفتے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اب تک مختلف مائیکرو فنانس اور دیگر بینکوں کے 192 جعلی اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے۔
جس میں الزام ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے رقم کو بٹ کوائن (کرپٹو کرنسی) میں تبدیل کر کے بیرونِ ملک منتقل اور منی لانڈرنگ کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وائٹ کالر کرائم نیٹ ورک میں کئی اعلیٰ سرکاری افسران کے ملوث ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
خیال رہے 172 ارب روپے کی اس بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی کا کیس پچھلے 2 سال سے تعطل کا شکار تھا، جسے اب دوبارہ متحرک کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
