واشنگٹن: افغان باشندوں کی غیرقانونی و مشتبہ سرگرمیوں سے میزبان ممالک کی سلامتی کو درپیش خطرات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے، امریکا میں ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ کے پہلے مقدمے میں 47 سالہ افغان خاتون نذیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کردیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایلین ٹررسٹ ریموول کورٹ کا پہلی بار استعمال کیا گیا اور ٹیکساس میں مقیم افغان خاتون کو ملک بدر کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں افغان خاتون نے دہشت گردی میں معاونت کا اعتراف کیا تھا، افغان شہریوں سے متعلق سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق افغان خاتون نے 2024 کے امریکی انتخابات کے روز داعش کی ایما پر اجتماعی فائرنگ کی سازش میں معاونت کی تھی، نذیرہ حاجی زادہ کے بیٹے اور داماد کو اسی سازش میں پہلے گرفتار کرکے سزا سنائی جاچکی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی قائم کردہ ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ کے سامنے نذیرہ حاجی زادہ کا مقدمہ تاریخ کا پہلا کیس ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈبلانچ نے مقدمے کو قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کیلئے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی حمایت کرنے والوں کو امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جنگی ساز و سامان کے حوالے سے فکرمند نہیں، سربراہ امریکی سینٹرل کمانڈ
دفاعی ماہرین کے مطابق افغان مہاجرین کے بڑھتے جرائم نے میزبان ممالک کو انسانی ہمدردی کے بجائے قومی مفاد، داخلی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دینے پر مجبورکردیا ہے۔
