اسلام آباد(9 ستمبر 2026): وفاقی حکومت نے ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور طلب و رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے عالمی ٹینڈر جاری کرتے ہوئے بین الاقوامی کمپنیوں سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔
حکام کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم کا تازہ ترین فصل سے ہونا لازمی ہوگا، جسے عالمی منڈی میں کسی بھی ذریعے سے خریدا جا سکے گا۔ اس درآمد شدہ گندم کو صوبوں کی ضروریات کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کل مقدار میں سے صوبہ سندھ کو تین لاکھ ٹن، پنجاب کو دو لاکھ پچاس ہزار ٹن، اور خیبر پختونخوا کو دو لاکھ ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔
گندم درآمد کرنے کی یہ منظوری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قائم کمیٹی نے دی تھی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی مجموعی طور پر دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے چکے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان میں سالانہ گندم کی کھپت تقریباً تین کروڑ تیرہ لاکھ ٹن ہے، جبکہ رواں سال گندم کی پیداوار تقریباً دو کروڑ چھانوے لاکھ ٹن رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی وجہ سے پیداوار اور ملکی ضرورت میں واضح فرق موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام طلب اور دستیاب ذخائر میں توازن قائم کرنے کی کوشش ہے تاکہ گندم کی فراہمی میں کمی سے روکا جا سکے، کیونکہ رسد میں کمی کی صورت میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

