کوئٹہ : سول اسپتال میں زچگی کے دوران جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ایک نومولود کے مبینہ طور پر غائب ہونے کا معاملہ سامنے آگیا تاہم واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے سول اسپتال میں زچگی کے دوران مبینہ طور پر ایک نو مولود بچہ غائب ہونے کا سنگین واقعہ سامنے آیا۔
ذرائع نے بتایا نگینہ بیگم کو اتوار کی رات تقریباً 11 بجے سول اسپتال کے گائنی وارڈ میں داخل کیا گیا، جہاں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش ہوئی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ الٹرا ساؤنڈ رپورٹس کے مطابق خاتون کے پیٹ میں جڑواں بچے تھے، تاہم آپریشن کے بعد انہیں صرف ایک نومولود حوالے کیا گیا۔
متاثرہ بچے کے والد شہزاد کا کہنا تھا کہ الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں دو جڑواں بچوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ سول اسپتال کی جانب سے فراہم کی گئی رپورٹ میں بھی دو بچوں کا اندراج موجود ہے۔
والد نے کہا کہ زچگی کے بعد انہیں صرف ایک بچہ دیا گیا جبکہ دوسرے بچے کے بارے میں پوچھنے پر اسپتال کا عملہ اور ڈاکٹرز کوئی واضح جواب نہیں دے رہے۔
اہلخانہ نے تقریباً 34 ہفتے 6 روز کے جڑواں حمل کی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ بھی پیش کی، جس میں دونوں بچوں کے دل کی دھڑکن موجود ہونے کا ذکر ہے۔
اہلخانہ نے حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہوتے ہی تمام حقائق سے میڈیا اور والد کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔

