پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اسپنر علی عثمان کے باہر ہونے کی وجہ بیان کردی ہے۔
پاکستان کے وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے ان کے کوچنگ پینل کی قیادت کریں گے اور اب انہوں نے بتایا ہے کہ بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان سیریز سے باہر کیوں کیا گیا ہے۔
علی عثمان نے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز 2016 میں کیا اور جولائی، اگست میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچوں کی سیریز میں ڈیبیو کیا۔
33 سالہ کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف جاری تین میچوں کی سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا بھی حصہ تھے اور انھوں نے لیڈز کے ایجبسٹن میں افتتاحی میچ میں پانچ وکٹیں لے کر دورے کا شاندار آغاز کیا تاہم قومی ٹیم میچ ایک اننگز اور 103 رنز سے ہار گئی۔
علی عثمان نے لارڈز ٹیسٹ میں ایک وکٹ حاصل کی اور 11.4 اوورز میں 56 رنز دیے۔
لارڈز میں 194 رنز کی شکست کے بعد عثمان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں برمنگھم میں تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستانی اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا جو 9 ستمبر کو شروع ہونا تھا۔
قائم مقام ہیڈ کوچ نے جواب میں عثمان کو ایک “معیاری باؤلر” کے طور پر تسلیم کیا لیکن اس بات پر اصرار کیا کہ اسکواڈ سے ان کا اخراج برطانیہ (یو کے) کی کنڈیشنز کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ 21 سالہ منہاس بھی بیٹنگ بھی کرسکتے ہیں ان کنڈیشنز میں ہمیں بیٹر کی بھی ضرورت تھی۔

