کراچی(4 ستمبر 2026): ڈیفنس میں بااثر خاتون کی جانب سے بہن بھائی پر مبینہ تشدد کے معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی کی مکمل انکوائری رپورٹ کی تفصیلات اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بااثر خاتون کی جانب سے بہن اور بھائی پر تشدد کے واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ایڈیشنل آئی جی کو بھجوادی ہے۔
اے آر وائی نیوز نے اس رپورٹ کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں جن کے مطابق کارروائی میں سنگین غفلت اور اختیارات کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور ان کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رول 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں : کراچی: ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی انکوائری مکمل، کون قصور وار قرار پایا؟
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فوٹیج میں متاثرہ فیملی پر تشدد کرنے والے تمام افراد ایس ایس پی فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں اور انہوں نے اس معاملے میں انتظامی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے اہم نکات کے مطابق متاثرہ فیملی کے خلاف درج کیے گئے مقدمے کو ‘بی کلاس’ (خارج) قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس متاثرہ فیملی کی مدعیت میں نیا مقدمہ درج کرنے اور فوٹیج میں واضح طور پر نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے 4 اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران اور موبائل افسر آفتاب منگی کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس پورے واقعے سے متعلق انتہائی شفاف تحقیقات عمل میں لائی گئی ہیں۔
