کراچی (4 ستمبر 2026): پاکستان کرکٹ میں موجودہ اکھاڑ پچھاڑ پر قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی سلیکٹر عاقب جاوید پر برس پڑے۔
جیسن گلیسپی نے کہا کہ عاقب جاوید بطور سلیکٹر ایسے سوچ بدلتے ہیں کہ جیسے کپڑے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ انہیں آئینہ دیکھنے اور اپنے فیصلوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی سلیکشن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں اور نہ سلیکٹرز اور کھلاڑیوں میں کوئی رابطہ ہے۔ پلیئرز کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ٹیم سے باہر ہونے کا پتہ چل رہا ہے، جو کھلاڑیوں کی بے توقیری ہے۔
جیسن گلیسپی نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں لگ رہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی خوف کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ سلمان آغا کو پہلے ٹیسٹ میں کپتانی، دوسرے میں ڈراپ اور تیسرے سے قبل وطن واپس بلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عاقب جاوید دو سال سے چیف سلیکٹر ہیں، اس لیے ٹیم کی موجودہ صورتحال کی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے انہیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں یکطرفہ شکستوں کے بعد قومی ٹیم میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ دوران ٹور ہیڈ کوچ، بولنگ کوچ ہٹانے کے ساتھ سات کھلاڑیوں کو باہر کرتے ہوئے ان کے متبادل نئے کھلاڑی پاکستان سے بھیجے گئے ہیں۔

