اسلام آباد : پاکستان میں گوگل دفتر کے افتتاح کے موقع پر پاکستانی بچوں کے لیے اردو زبان میں آن لائن سیفٹی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطاق پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی، ٹیکنالوجی، توانائی اور تعلیمی روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی ناظم الامور نے وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں منعقدہ پاکستان میں گوگل کے پہلے باقاعدہ دفتر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر گوگل اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں اہم اقدامات اور معاہدوں کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے گوگل نے پہلے باضابطہ دفتر کا افتتاح کر دیا ہے۔
گوگل نے پاکستانی بچوں کے لیے اردو زبان میں آن لائن سیفٹی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستانی طلبہ کو ایک سال کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹولز تک مفت رسائی فراہم کی جائے گی۔
اسلام آباد میں ‘اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس’ قائم کرنے اور 1 لاکھ 50 ہزار افراد کو کیریئر ٹریننگ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید برآں، گوگل اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ ماہرین ٹاسک فورس قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
امریکی ناظم الامور کی موجودگی میں امریکی کمپنی ‘بیکر ہیوز’ اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا۔
معاہدے کے تحت امریکی کمپنی پاکستان کی 18 آئل اینڈ گیس فیلڈز کی بحالی کے لیے جدید امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت فراہم کرے گی، جو دونوں ممالک کے توانائی تحفظ کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکی سفارتخانے کی “فریڈم 250 اسپیکر سیریز” میں امریکی سرمایہ کار اسکاٹ فاکس سمیت کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جس کا مقصد پاکستانی کاروباری رہنماؤں کو امریکی شراکت داروں سے جوڑنا ہے۔
امریکی قونصل جنرل گڈمین نے فاؤنڈرز میوزیم کی ’’روڈ ٹو لبرٹی‘‘ نمائش کا افتتاح کیا۔
یہ نمائش پاکستانی نوجوانوں اور اساتذہ کو امریکی تاریخ اور بانی شخصیات سے روشناس کرائے گی، جس میں ‘ایجوکیشن یو ایس اے’ کی جانب سے امریکی جامعات کے ورچوئل ریئلٹی ٹورز بھی شامل کیے گئے ہیں۔

