کراچی(6 اکتوبر 2026): کراچی ایئرپورٹ کسٹمز نے دو مبینہ کاغذی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 20 کروڑ روپے کی مشتبہ درآمدات اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد بے نقاب کر دیے ہیں۔
محکمہ کسٹمز کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ان کمپنیوں نے بغیر پی ٹی اے سرٹیفکیٹ کے 71,818 انٹرنیٹ راؤٹرز کلیئر کرائے، جبکہ درآمدی مالیت میں 468 ملین روپے کے مبینہ فرق کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے 2 ارب 9 کروڑ روپے کی مقامی فروخت تو ظاہر کی، تاہم اس کے مقابلے میں سیلز ٹیکس کی ادائیگی انتہائی کم رہی۔ اس کے علاوہ تفتیش میں متعدد مشترکہ آئی پی ایڈریسز اور خفیہ آپریٹرز کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
کسٹمز حکام نے اس مبینہ منی لانڈرنگ اور فائدہ مند ملکیت کی مکمل تحقیقات کے لیے کسٹمز، ایف بی آر اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے اور اس پورے کیس کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت باضابطہ طور پر ریفر کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

