اسلام آباد(23 ستمبر 2026) وفاقی حکومت نے ملک میں سول ایوارڈز عطا کرنے کے موجودہ نظام اور طریقہ کار پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیرِ اعظم نے سول ایوارڈز کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سول ایوارڈز کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے 16 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کے کنوینر نامور قانون دان اور سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ کو مقرر کیا گیا ہے۔
اس کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد ملک میں سول ایوارڈز دینے کے موجودہ طریقہ کار کا احاطہ کرنا، اس میں درپیش خامیوں کا خاتمہ کرنا اور ایوارڈز کی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانا ہے تاکہ یہ قومی اعزازات حقیقی معنوں میں قابل اور مستحق شخصیات تک پہنچ سکیں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کو اعزازات اور تمغوں کے معیار کو مزید بلند کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سول اعزازات کا قانونی ڈھانچہ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 259 میں درج ہے، جو صدرِ مملکت کو وفاقی حکومت کی سفارش پر شہریوں اور غیرشہریوں کو نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزاز دینے کا اختیار دیتا ہے۔
اس قانون کے نفاذ اور شفافیت کی ذمہ داری ’ڈیکوریشنز ایکٹ 1975‘ پر عائد ہوتی ہے، جو اعزازات کے قیام، ان کی منسوخی یا عطا کرنے کے طریقہ کار کو طے کرتا ہے اور صدر کی منظوری کے بغیر کسی شخص کو یہ اعزاز پہننے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ اعزاز دینے کا عمل کئی مراحل سے گزرتا ہے۔
ہر برس دسمبر میں وزارتیں اور صوبائی محکمے نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کے نام کابینہ ڈویژن کو بھیجتے ہیں۔
اس کے بعد تین مرحلوں پر مشتمل کمیٹیاں ان ناموں کی جانچ کرتی ہیں، شواہد اور خدمات کا جائزہ لیتی ہیں اور حتمی فہرست تیار کرتی ہیں۔ یہ فہرست صدرِ مملکت کو بھیجی جاتی ہے، جو 14 اگست کو اعلان کرتے ہیں اور 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر باضابطہ تقریب میں یہ اعزازات عطا کیے جاتے ہیں۔

