کراچی (15 جولائی 2026): کھیل میں جسمانی فٹنس بہت اہم ہے لیکن کئی ایسے کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے جسمانی معذوری کے باوجود عالمی سطح پر نام کمایا۔
کھیل کوئی بھی ہو، اس کے لیے جسمانی فٹنس اہم ہوتی ہے، بعض اوقات تو فٹنس کا معاملہ کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر پر فل اسٹاپ بھی لگا دیتا ہے اور کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
مگر ہم آپ کو ایسے کھلاڑیوں کے بارے بتاتے ہیں، جو حادثات اور بیماری کے باعث جسمانی طور پر معذور ہوئے لیکن اس کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ میں نام کمایا اور کئی کارہائے نمایاں انجام دیے، ایک نے تو اپنی ٹیم کی قیادت بھی کی اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔
پولیو وہ مرض ہے، جو کسی بھی شخص کو زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیتا ہے، لیکن کرکٹ کی دنیا میں ایک ایسا پولیو سے متاثرہ کرکٹر گزرا ہے، جس نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 200 سے زائد وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
بھاگوت چندر شیکھر:
بھاگوت چندر شیکھر نے بھارت کے لیے 242 انٹرنیشنل ٹیسٹ وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور یہ نا قابل یقین کارنامہ انہوں نے اپنے پولیو زدہ ہاتھ سے انجام دیا ہے۔
چندر شیکھر جو بچپن سے کرکٹر بننے کا خواب دیکھتے تھے، اوائل عمری میں پولیو کا شکار ہوئے اور ان کا دایاں ہاتھ کمزور اور مفلوج ہو گیا۔
تاہم چندر شیکھر نے اپنے خواب کو بکھرنے نہ دیا اور اپنی اس کمزوری کو ہی دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار بناتے ہوئے پتلے اور پولیو زدہ دائیں ہاتھ سے لیگ اسپن بولنگ شروع کی۔

پولیو سے متاثرہ ہاتھ عام ہاتھ سے زیادہ لچکدار ہو گیا تھا، جس سے وہ گیند کو اس طرح غیر متوقع رفتار اور باؤنس دیتے تھے کہ مخالف بیٹر سمجھ ہی نہیں پاتے تھے کہ گیند کب اسپن ہوگی اور کب تیز آئے گی۔
انہوں نے ہندوستان کے لیے 58 ٹیسٹ میچ کھیلے اور حریف ٹیموں کے پسینے چھڑاتے ہوئے 242 وکٹیں اپنے نام کیں۔
ٹونی گریگ:
انگلینڈ کے سابق کپتان آل راؤنڈر ٹونی گریگ کسی بیماری سے جسمانی طور پر معذور تو نہیں ہوئے بلکہ وہ ایک ایسی خطرناک بیماری کا شکار تھے، جس کا انہیں ساری عمر سامنا کرنا پڑا۔
مرگی وہ خطرناک مرض ہے، جو جب بھی مریض پر حملہ کرتی ہے تو ردعمل خوفناک ہوتا ہے، کیونکہ اس کا حملہ ہمیشہ مریض کے دماغ پر ہوتا ہے اور اس حملے کے دوران مریض اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھتا ہے۔

عمر بھر ساتھ رہنے والے اس موذی مرض کا شکار افراد عموماً کسی بڑے اسٹیج پر دکھائی نہیں دیتے، لیکن سابق انگلش کپتان ٹونی گریگ کی زندگی ایسے افراد کے لیے حوصلے کا باعث ہےْ
ٹونی گریگ ‘ایپی لیپسی’ یعنی مرگی کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہیں اکثر شدید دورے پڑتے تھے، جس سے ان کا جسم بے قابو ہو جاتا تھا۔
تاہم اس دماغی بیماری کے سائے میں بھی ٹونی گریگ نے ہار نہیں مانی۔ وہ میدان پر اترتے رہے، رنز بناتے رہے اور وکٹیں حاصل کرتے رہے۔
انہوں نے نہ صرف انگلینڈ کے لیے 58 ٹیسٹ میچ کھیلے، بلکہ ٹیم کی کپتانی بھی کی۔ ان کے نام ٹیسٹ کرکٹ میں 8 شاندار سنچریاں اور 141 وکٹیں درج ہیں۔ بعد میں وہ دنیا کے سب سے مقبول کمنٹیٹر بھی بنے۔
منصور علی خان پٹودی:
ایسا ہی ایک نام منصور علی خان پٹودی کا ہے، جہوں نے ایک حادثے میں اپنی آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے گنوا دی، لیکن بھارت کے لیے اس معذوری کے ساتھ نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی بلکہ ٹیم کی قیادت کر کے تاریخی کامیابیاں بھی دلائیں۔
منصور پٹودی 1961 میں انگلینڈ میں ایک ہولناک کار حادثے میں اس وقت ہمیشہ کے لیے اپنی دائیں آنکھ کی بینائی کھو بیٹھے، جب ان کی عمر صرف 20 برس تھی اور ان کی آنکھیں نامور کرکٹر بننے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔

حادثے کے بعد ڈاکٹروں نے اپنے تئیں ان کے لیے کرکٹ کے دروازے ہمیشہ بند کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ کبھی ٹھیک سے دیکھ نہیں پائیں گے، کرکٹ کھیلنا تو دور کی بات ہے۔
تاہم نواب منصور خان پٹودی نے ہمت نہ ہاری اور ایک آنکھ سے ہی گیند کی لینتھ کو بھانپنے کی مشق کی۔ جب وہ میدان پر اترتے، تو انہیں ایک کی جگہ 2 گیندیں نظر آتی تھیں، لیکن اپنی سخت مشق سے انہوں نے صحیح گیند کو ہٹ کرنا سیکھ لیا۔
حادثے کے چند ہی مہینوں بعد انہوں نے نہ صرف ٹیم میں واپسی کی، بلکہ محض 21 سال کی عمر میں بھارتی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کم عمر کپتان بھی بنے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 1968 میں نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیت کر بھارت کو بیرون ملک پہلی تاریخی کامیابی دلوائی۔
سر لین ہٹن:
انگلینڈ کے عظیم بلے باز سر لین ہٹن کی کہانی حیران کن ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایک فوجی تربیت کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے ہاتھ کا آپریشن کرنا پڑا، جس کے بعد ان کا بایاں ہاتھ ان کے دائیں ہاتھ سے تقریباً 2 انچ چھوٹا ہو گیا۔
کرکٹ میں تکنیک اور دونوں ہاتھوں کا توازن سب سے اہم مانا جاتا ہے، اس لیے ان کا کرکٹ کیریئر ختم سمجھا گیا۔ تاہم ہٹن نے دوبارہ میدان میں اتر کر اور کامیابیاں سمیٹ سب کو غلط ثابت کر دیا۔
![]()
سر لین ہٹن نے اس معذوری کے بعد اپنی بیٹنگ تکنیک کو بدلا، گرفت (گرپ) میں تبدیلی کی اور کامیاب بلے باز کے طور پر نام پیدا کیا۔
انہوں نے انگلینڈ کے لیے 79 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 19 سنچریوں کے ساتھ 6,971 رنز بنائے۔
مارٹن گپٹل:
کرکٹ کی حالیہ تاریخ میں اس صورتحال کا شکار نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر مارٹن گپٹل رہے، جو صرف 13 سال کی عمر میں لفٹ حادثے میں بائیں پیر کی تین انگلیاں گنوا بیٹھے تھے۔
اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ لڑکا کبھی دوڑ بھی پائے گا۔ لیکن گپٹل نے خاص طور پر تیار کردہ جوتے پہنے اور میدان میں اتر پڑے۔
![]()
اس کے بعد وہ نہ صرف نیوزی لینڈ کے سب سے دھماکے دار اوپنر بنے، بلکہ دنیا کے سب سے شاندار فیلڈرز میں سے ایک کہلائے۔ ون ڈے کرکٹ میں 237 رنز کی تاریخی اننگز کھیلنے والے گپٹل نے بین الاقوامی کرکٹ میں 12 سال تک کیویز کی نمائندگی کی اور ہر فارمیٹ کے کامیاب کھلاڑی رہے۔
وہ آج بھی دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے مشہور کھلاڑی ہیں۔ کریز کے درمیان اور میدان میں دوڑتے دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ گپٹل کے ایک پیر کی تین انگلیاں نہیں ہیں۔
