• Home  
  • حمایت علی شاعر: فن و شخصیت
- Uncategorized

حمایت علی شاعر: فن و شخصیت

اردو ادب کی تاریخ میں حمایت علی شاعر کا نام اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ وہ ایسے شاعر گزرے ہیں جنھوں نے اپنی سوانح عمری منظوم تحریر کی۔ حمایت علی شاعر ایک نئی صنفِ سخن ثلاثی کے بھی موجد تھے۔ بطور شاعر یہ ان کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آج اردو کے اس معروف […]

اردو ادب کی تاریخ میں حمایت علی شاعر کا نام اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ وہ ایسے شاعر گزرے ہیں جنھوں نے اپنی سوانح عمری منظوم تحریر کی۔ حمایت علی شاعر ایک نئی صنفِ سخن ثلاثی کے بھی موجد تھے۔ بطور شاعر یہ ان کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آج اردو کے اس معروف شاعر حمایت علی شاعر کی برسی ہے۔

اورنگ آباد، دکن کے ایک گھرانے میں 14 جولائی 1926ء میں آنکھ کھولنے والے حمایت علی نے تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے شاعری کا آغاز کیا اور اسی دور میں‌ چند افسانے بھی لکھے مگر پھر شاعری کی جانب متوجہ ہوگئے۔ تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان چلے آئے۔ 1950ء کے بعد کراچی میں ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔ بعد میں فلمی دنیا میں بطور گیت نگار قدم رکھا اور نگار ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ انھوں نے متعدد کتابیں ادبی اور تحقیق پر مبنی یادگار چھوڑی ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2002ء میں حمایت علی شاعر کو تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

حمایت علی شاعر کا دور تقسیم ہند کی تحریکوں اور ترقی پسند ادب کا تھا۔ ان کی نوجوانی کا زمانہ تھا جب ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑ چکی تھی اور اس دور کے بڑے بڑے ادیب اور شاعر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو رہے تھے۔ طلبا بھی اس تحریک کا اثر قبول کررہے تھے اور حمایت علی شاعر بھی اس کے سرگرم رکن بن گئے۔ ان کی آواز اور شعر پڑھنے کا انداز بہترین تھا اور اسی بنیاد پر حیدر آباد دکن میں ریڈیو میں ملازمت مل گئی۔ آزادی کے بعد پولیس ایکشن ہوا تو ریڈیو کی ملازمت سے بر طرفی عمل میں‌ لائی گئی اور اس کی وجہ ان کی کم تعلیم بتائی گئی۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ روزگار کی خاطر ممبئی چلے گئے جہاں دو فلموں کے لیے نغمات لکھے اور پھر پاکستان ہجرت کرگئے۔ یہاں بی اے اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور ریڈیو سے وابستہ رہے۔ حمایت علی شاعر کم و بیش چھے دہائیوں تک شعر و ادب کی دنیا میں بطور تخلیق کار سرگرم رہے۔ انھوں نے تنقیدی اور تحقیقی کام بھی خوب کیا اور ان کے تراجم بھی سامنے آئے۔ انھوں نے ادبی تخلیقات میں بھی کئی طرح سے جدت کا ثبوت دیا۔ ایک طرف اگر اردو شاعری کو ثلاثی دی تو دوسری طرف ان کی منظوم سوانح حیات جس کا عنوان ’ آئینہ در آئینہ‘ ہے، ان کا کمال ہے۔ ان کے فلمی رومانوی گیتوں کے علاوہ شادی کے گانے، لوریاں اور حمد و نعت بھی معروف گلوکاروں‌ کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں اور فلموں میں شامل ہیں۔

ان کے شعری مجموعوں میں ’آگ میں پھول‘ ،’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘ اور ’ہارون کی آواز‘ شامل ہیں۔ ان کی نعتیہ شاعری کا انتخاب ’حرف حرف روشنی‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے علاوہ شیخ ایاز کے فن اور شخصیت پر ’شخص و عکس‘ کے نام سے تنقیدی مقالات اور ’بنگال سے کوریا تک‘ طویل افسانوی نظم بھی ان کی مطبوعات میں شامل ہے۔

ان کا انتقال 15 جولائی 2019ء کو کینیڈا میں ہوا اور وہیں سپرد خاک کیے گئے۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.