(15 جولائی 2026): ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے عوامی تنقید اور رازداری سے متعلق خدشات کے بعد اپنا متنازع اے آئی پر مبنی تصویر سازی کا نیا فیچر ’’میوز امیج‘‘ لانچ ہونے کے چند ہی دن بعد واپس لے لیا۔
میوز امیج فیچر کمپنی کا پہلا امیج جنریشن ماڈل تھا، یہ فیچر گزشتہ ہفتے انسٹاگرام اور فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے اے آئی اسسٹنٹ میٹا اے آئی کے ذریعے متعارف کرایا تھا۔
ٹیک کرنچ کے مطابق میوز امیج ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی فیچر تھا، جو متنازع ہو گیا تھا، اس فیچر کی مدد سے صارفین پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹس کی تصاویر اے آئی کی مدد سے تبدیل کر سکتے تھے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا یہ فیچر اس ہفتے کئی دیگر اے آئی ٹولز کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا، تاہم یہ ’’توقعات پر پورا نہیں اترا‘‘ اور اب یہ صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
آئی فون 18 پرو میکس کیسا ہوگا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
میوز امیج (Muse Image) نامی نئے اے آئی امیج جنریٹر کو میٹا کے خصوصی اے آئی شعبے ’میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز‘ نے تیار کیا تھا۔ کمپنی نے اس فیچر کی تشہیر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صارفین کسی بھی انسٹاگرام اکاؤنٹ کو @- کے ذریعے مینشن کر کے اس کی نئی تصویر تیار کر سکتے ہیں۔ تاہم اس فیچر میں یہ انتظام موجود نہیں تھا کہ اگر کسی صارف کی تصاویر اس مقصد کے لیے استعمال کی جائیں تو اسے اس بارے میں اطلاع دی جائے۔
اسی وجہ سے یہ فیچر متعارف ہوتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گیا۔ ٹیک کرنچ نے اس فیچر کو غیر فعال کرنے کے طریقۂ کار پر بھی ایک رہنما مضمون شائع کیا تھا۔ اب میٹا نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے جمعہ کو ایک بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا کہ یہ فیچر ختم کیا جا رہا ہے۔
میٹا نے اپنے بلاگ میں کہا ’’ہمارا مقصد ایک مفید تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا اور لوگوں کو یہ اختیار دینا تھا کہ آیا ان کا عوامی مواد اس انداز میں بہ طور حوالہ استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم ہمیں موصول ہونے والی آرا سے معلوم ہوا کہ یہ فیچر توقعات پر پورا نہیں اترا، اس لیے اب اسے ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کے بعد اے آئی ٹولز کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال بھی سامنے آیا ہے، خصوصاً خواتین مشہور شخصیات کی جعلی برہنہ تصاویر تیار کرنے کے لیے۔ مختلف پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو روکنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے متعارف کرائے گئے حفاظتی اقدامات اکثر ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
