اسلام آباد (16 ستمبر 2026): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں کوئی ایسی بات نہیں جو اسے مسلم اتحاد کہا جائے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے میں کوئی ایسی بات نہیں جو اسے مسلم اتحاد کہا جائے۔ مکہ معاہدے میں کسی کے خلاف جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقائی استحکام ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ اچانک صورتحال کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کی شکل ہے۔ یہ معاہدہ اجتماعی ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ معاہدے کے فریق تینوں ملکوں کے تعلقات کس قدر گہرے ہیں۔
احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدوں کی آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کی جاتیں۔ کوئی ملک یا فوج اپنی آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کرتا۔ مکہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات تینوں ملک ہی طے کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے میں امن پسند خواہشمند ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس معاہدے میں توسیع کا فیصلہ تینوں ملک ہی کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات تذویراتی نوعیت کے ہیں اور مکہ معاہدے سے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

